علم النحو (Ilm un Nahw) عربی گرامر کا وہ شعبہ ہے جو جملے میں الفاظ کے باہمی تعلق اور اعراب سے بحث کرتا ہے۔ یہاں اس کا تعارف، نصاب میں مقام اور مقرر کردہ کتابیں جانیں۔
ilm-un-nahw-arabic-syntax-urdu.webp · علم النحو کا خاکہ: فعل، فاعل، مفعول (Ilm un Nahw)
علم النحو (Ilm un Nahw) عربی گرامر کی وہ شاخ ہے جو جملے کی ساخت اور الفاظ کے آخر پر آنے والے اعراب (زبر، زیر، پیش) کے قواعد سکھاتی ہے۔ وفاق المدارس کے نصاب میں یہ ثانویہ عامہ (سالِ اول) میں پڑھایا جاتا ہے۔
علم النحو عربی زبان کے دو بنیادی علوم میں سے ایک ہے (دوسرا علم الصرف ہے)۔ نحو کا کام یہ بتانا ہے کہ جملے میں ہر لفظ کی کیا حیثیت ہے: کون سا فاعل ہے، کون سا مفعول، اور اسی مناسبت سے لفظ کے آخر پر کون سا اعراب آئے گا۔ اسی لیے نحو کو عربی عبارت درست پڑھنے اور سمجھنے کی کنجی کہا جاتا ہے۔
قرآن و حدیث کی عربی عبارت کو صحیح سمجھنے کے لیے نحو ناگزیر ہے، کیونکہ اعراب کی تبدیلی سے معنیٰ بدل جاتا ہے۔ اسی وجہ سے درسِ نظامی میں نحو کو ابتدا ہی میں رکھا گیا ہے۔
وفاق المدارس کے نصابِ بنین میں علم النحو ثانویہ عامہ (سالِ اول) کے مضمونِ نحو میں شامل ہے، اسی درجے کے دیگر مضامین کے ساتھ۔
| مضمون | مقرر کردہ کتاب |
|---|---|
| نحو | علم النحو، نحو میر، شرح مائۃ عامل مع الترکیب |
| تمرین النحو | المنہاج فی القواعد والاعراب، نحو المیسر، تسہیل النحو |
علم النحو کے نام سے معروف درسی کتاب مولانا مشتاق احمد صاحب چرتھاولی حفظہ اللہ (Maulana Mushtaq Ahmad Sahib Charthawli) کی تصنیف ہے، جو ابتدائی طلبہ کے لیے سادہ اردو میں لکھی گئی ہے۔
اسی کتاب کو مدرستی پر ویڈیو اسباق، ہر سبق کے بعد کوئز اور پیش رفت کے ساتھ پڑھا جا سکتا ہے۔
عربی گرامر کی وہ شاخ جو جملے میں الفاظ کے تعلق اور اعراب کے قواعد سکھاتی ہے (Ilm un Nahw)۔
کیونکہ اعراب کی تبدیلی سے معنیٰ بدل جاتا ہے؛ قرآن و حدیث کی عبارت درست سمجھنے کے لیے نحو ناگزیر ہے۔
معروف درسی کتاب مولانا مشتاق احمد صاحب چرتھاولی حفظہ اللہ کی تصنیف ہے۔
وفاق المدارس کے نصابِ بنین میں ثانویہ عامہ (سالِ اول) میں۔
نحو جملے میں الفاظ کے تعلق کا علم ہے، صرف الفاظ کی ساخت کا۔
مدرستی پر علم النحو کے سبق وار صفحات اور کوئز دستیاب ہیں۔
نحو میر بھی ثانویہ عامہ کے مضمونِ نحو کی مقرر کردہ کتابوں میں شامل ہے۔
آخری تصدیق: 15 جولائی 2026