علم المنطق درست سوچنے اور صحیح استدلال کرنے کے اصولوں کا علم ہے، جو غلطی سے بچاتا ہے۔ یہاں اس کا تعارف اور درسِ نظامی میں مقام جانیں۔
ilm-ul-mantiq-position-urdu.webp · علم المنطق کا درسِ نظامی میں مقام (Mantiq)
علم المنطق درست طریقے سے سوچنے اور صحیح نتیجہ اخذ کرنے کے اصولوں کا علم ہے، جو استدلال میں غلطی سے بچاتا ہے۔ درسِ نظامی میں یہ ثانویہ خاصہ کے درجات میں پڑھایا جاتا ہے، اور تیسیر المنطق و مرقاۃ جیسی کتب معروف ہیں۔ یہ اصولِ فقہ اور علم الکلام کے لیے مفید بنیاد ہے۔
منطق (Logic) درست سوچنے اور صحیح استدلال کرنے کے قواعد کا علم ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ مقدمات سے نتیجہ کیسے درست طور پر اخذ کیا جائے اور کہاں سوچ میں غلطی واقع ہو سکتی ہے۔ منطق کوئی مستقل دینی علم نہیں بلکہ ایک آلی علم (اوزار) ہے جو دیگر علوم، خصوصاً اصولِ فقہ اور علم الکلام، کو درست سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
دینی متون میں بہت سے مقامات پر استدلال اور دلائل آتے ہیں۔ منطق طالبِ علم کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ دلائل کو درست پرکھے اور غلط استدلال کو پہچانے۔ اسی لیے اسے اصولِ فقہ اور عقائد سے پہلے یا ساتھ پڑھایا جاتا ہے۔
منطق عام طور پر ثانویہ خاصہ کے درجات میں پڑھائی جاتی ہے۔ ابتدائی کتب میں تیسیر المنطق اور مرقاۃ شامل ہیں، اور آگے کے درجات میں مزید تفصیلی کتب آتی ہیں۔
| کتاب | سطح |
|---|---|
| تیسیر المنطق | ابتدائی |
| مرقاۃ | متوسط |
نوٹ: یہ درسِ نظامی میں عمومًا پڑھائی جانے والی معروف کتب ہیں۔ درجہ وار مقرر فہرست کے لیے آفیشل نصاب دیکھیں۔
پیش نیاز: عربی گرامر پر عبور۔ اگلا / متعلقہ: منطق کی بنیاد پر اصولِ فقہ اور عقیدہ (علم الکلام) کو بہتر سمجھا جا سکتا ہے۔
| تعریف | درست سوچنے اور استدلال کے اصولوں کا علم۔ |
| نوعیت | آلی علم (اوزار)۔ |
| مقام | ثانویہ خاصہ۔ |
| نمایاں کتب | تیسیر المنطق، مرقاۃ۔ |
| پیش نیاز | عربی گرامر۔ |
درست سوچنے اور صحیح استدلال کرنے کے اصولوں کا علم۔
تاکہ طالبِ علم دلائل کو درست پرکھے اور غلط استدلال پہچانے۔
یہ ایک آلی علم (اوزار) ہے جو دیگر علوم کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
منطق کی ایک ابتدائی معروف کتاب۔
عام طور پر ثانویہ خاصہ کے درجات میں۔
منطق اصولِ فقہ کے استدلال کو سمجھنے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
عربی گرامر پر عبور۔
منطق کی ایک متوسط سطح کی معروف کتاب۔
علم الکلام میں استدلال کے لیے منطق کی زبان استعمال ہوتی ہے۔
منطق میں جن باتوں سے استدلال کیا جائے وہ مقدمات ہیں، اور جو اخذ ہو وہ نتیجہ۔
ابتدا میں مجرد لگتا ہے، مگر تیسیر المنطق جیسی کتب اسے آسان بناتی ہیں۔
آخری تصدیق: 15 جولائی 2026